ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / افغانستان میں جرمن قونصل خانے پر طالبان کا حملہ

افغانستان میں جرمن قونصل خانے پر طالبان کا حملہ

Sat, 12 Nov 2016 15:54:25    S.O. News Service

کابل 12؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)شمالی افغانستان میں طالبان نے جرمن قونصل خانے پر ٹرک بم حملہ کیا۔ گزشتہ شب ہونے والے اس حملے میں سفارت خانے کی عمارت کی بیرونی دیوار تباہ ہو گئی، جب کہ چار افراد ہلاک ہو گئے۔بتایا گیا ہے کہ مزار شریف میں کیے گئے اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مطابق اس ٹرک بم حملے کے نتیجے میں جرمن سفارت خانے کی عمارت کو زبردست نقصان پہنچا ہے، جب کہ قریب پانچ کلومیٹر کے علاقے میں متعدد دیگر عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک مقامی ڈاکٹر کے مطابق اس واقعے میں 120افراد زخمی ہوئے ہیں۔جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کا کہنا ہے کہ اس حملے کے وقت عمارت کے اندر سفارتی عملہ موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمن افغانستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تشدد کے تناظر میں وہاں اپنے کردار پر نظرثانی کر رہا ہے۔جمعرات کے روز پیش آنے والے اس واقعے کو امریکا میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری سے شروع ہونے والی مدت صدارت اور ان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک کڑے امتحان کی نشان دہی قرار دیا جا رہا ہے۔یہ بات اہم ہے کہ افغانستان میں امریکی جنگی مشن سن 2014ء کے اختتام پر ختم ہو چکا ہے، تاہم اب بھی کئی ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں، جو وہاں زیادہ تر تربیت فراہم کرنے کے کام پر مامور ہیں، تاہم کہیں کہیں وہ طالبان کے خلاف کارروائیوں میں افغان فورسز کی عسکری مدد کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ شمالی افغان شہر قندوز میں ایک امریکی فضائی کارروائی میں 30 افراد کی ہلاکت کے بدلے میں کیا گیا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹیلی فون پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ جرمن قونصل خانے کو تباہ کرنے کے لیے ہتھیاروں سے لیس جنگجوؤں اور خودکش بمباروں کو روانہ کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ انہیں جو کوئی نظر آئے اسے ہلاک کر دیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طالبان جنگجوؤں نے قندوز شہر پر قبضے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا تھا، تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس سے ایک برس قبل طالبان نے کچھ روز کے لیے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد افغان فورسز نے امریکی عسکری مدد کے ذریعے ان شدت پسندوں سے یہ شہر واپس چھینا تھا۔سوئٹزرلینڈ میں جنیوا اور لبنان کے دارالحکومت بیروت سے جمعہ گیارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق جنگ زدہ ملک شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں وہاں محصور ایک چوتھائی ملین شہریوں میں اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی بنیادوں پر جو اشیائے خوراک تقسیم کی جا رہی تھیں، ان کا آخری حصہ بھی کل جمعرات دس نومبر کو ان ضرورت مند محصورین میں تقسیم کر دیا گیا۔

عالمی ادارے کے سینیئر مشیر اور شام میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کے نگران مندوب ژان ایگیلینڈ (Jan Egeland) کا کہنا ہے، حلب کا وہ علاقہ، جہاں باہر سے امدادی سامان کی ترسیل اس سال جولائی کے اوائل سے بند ہے، روسی فضائی طاقت کی مدد سے شامی حکومتی دستوں کے محاصرے میں ہے اور وہاں کی صورت حال حقیقی معنوں میں خوفناک اور تباہ کن ہے۔ناروے کے اس سفارت کار کے مطابق کل جمعرات کو مشرقی حلب میں موجود باقی ماندہ امدادی اشیائے خوراک کی تقسیم سے بھی پہلے اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے بھی شامی تنازعے کے فریقین سے ایک بار پھر اپیل کی تھی کہ شہر کے اس حصے میں خوراک اور ادویات کی فراہمی کی اجازت دینے کے علاوہ امدادی کارکنوں کو بھی وہاں جانے دیا جائے۔اس کے علاوہ عالمی ادارے کی طرف سے شامی خانہ جنگی کے فریقوں سے یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ وہ حلب میں بہت زخمی یا بہت بیمار ان300کے تقریباََ افراد کو بھی ان کے اہل خانہ کے ہمراہ وہاں سے نکلنے کی اجازت دیں، جنہیں مناسب طبی امداد کی اشدضرورت ہے۔روسی نائب وزیر اعظم سیرگئی ریابکوف نے کل دس نومبر کے روز کہا تھا کہ روسی فضائیہ مشرقی حلب میں اپنے فضائی حملے ابھی تک اس لیے روکے ہوئے ہے کہ وہاں انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات پہنچائی جا سکیں۔

لیکن ان روسی حکومتی دعووں کے برعکس ژان ایگیلینڈ نے کہا ہے کہ مشرقی حلب میں ابھی تک شدید لڑائی جاری ہے جس کے باعث وہاں امدادی کارروائیوں کو جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی ایگیلینڈ نے یہ بھی کہا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے جنگی فریقین نے کئی ایسی شرائط بھی رکھی ہیں، جن کی وجہ سے عالمی ادارے کی امدادی کوششیں مزید پیچیدگی اور مشکلات کا شکار ہو چکی ہیں۔ژان ایگیلینڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ جیسا ہم نے شام میں دیکھا ہے، ایسا ہم نے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں نہیں دیکھا کہ انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل اور تقسیم کو مختلف جنگی دھڑوں کی طرف سے اپنے اپنے فائدے کے لیے بڑی چالاکی سے اتنا زیادہ سیاسی رنگ دے دیا گیا ہو۔اقوام متحدہ کے اس سینیئر مشیر نے شام میں حکومت مخالف باغیوں کی حمایت کرنے والے ملک امریکا اور دمشق حکومت کی سیاسی اور عسکری حمایت کرنے والے روس دونوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ واشنگٹن اور ماسکو انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں میں اس بحرانی تعطل کے خاتمے کے لیے اپنااپنااثرورسوخ استعمال کریں۔


Share: